اپنے ہاتھوں سے جب جلائیں پھول
اپنے ہاتھوں سے جب جلائیں پھول
کیسے کرتے بھلا وفائیں پھول
جن کی گلیوں میں پاؤں چھلنی تھے
ان کے رستے میں کیوں بچھائیں پھول
پھول مہنگے بہت ہیں پت جھڑ میں
کاغذوں سے چلو بنائیں پھول
لوگ شیدائی ہیں جواہر کے
ہم کسے جا کے اب دکھائیں پھول
جس کی خاطر گلاب لیتے ہیں
سامنے اس کے ہی چھپائیں پھول
خار شاخوں سے باندھ کر تنہا
لے اڑی ہیں سبھی ہوائیں پھول
جس نے نوچا بدن شگوفوں کا
اس کے ہاتھوں میں پھر نہ آئیں پھول
ہونٹ کلیوں سے مسکراتے ہیں
شبنمی آنکھ اور ادائیں پھول
ٹہنیاں جانتی ہیں اچھے سے
عشق کانٹوں سا کب نبھائیں پھول
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.