فانوس تمنا ہے کہ دنیا مرے آگے
فانوس تمنا ہے کہ دنیا مرے آگے
ہر رنگ میں ہے اس کا سراپا مرے آگے
وہ کشتیٔ انفاس میں لمحوں کا تسلسل
یوں بھی تو رہا وقت کا دریا مرے آگے
اک نقش کہ بے خواب ہے بے رنگ رہا ہے
اک نقطۂ پرکار ہے صحرا مرے آگے
آسودگیٔ شب ہے وہی شمع فروزاں
رہتی ہے وہی صورت زیبا مرے آگے
وہ دام کبھی زلف کبھی رنگ رہا ہے
آیا مرے پیچھے کبھی پھیلا مرے آگے
ہر قصر رعونت کو میں ٹھکرا کے چلا ہوں
فرعون بھی پابستہ تھا گویا مرے آگے
یہ خواب طرب ناک بھی غم دے گیا مجھ کو
وہ خواب میں آیا بھی تو رویا مرے آگے
میں جس کی عنایت کا طلب گار رہا ہوں
سمجھا ہے مرے بعد نہ سمجھا مرے آگے
جو تو نے کہا کیوں مری تقدیر ہوا ہے
جو میں نے کیا کیوں نہ وہ آیا مرے آگے
مصلوب بھی معتوب بھی منسوب بھی غم سے
بدلا ہے کئی رنگ مسیحا مرے آگے
اک زخم بھی اک پھول بھی اک بھول بھی میری
ساعت گر ہر نقش ہے دنیا مرے آگے
اک ابر کی صورت تھی کہ وہ میرا جنوں تھا
اک بوند کی صورت بھی نہ برسا مرے آگے
میں قیس کی تصویر بنا بیٹھا ہوں جیسے
لیلیٰ ہے نہ اب محمل لیلیٰ مرے آگے
غالب سے بڑا کون ہوا شاعر محفل
وہ حاصل ہر شعر ظفرؔ تھا مرے آگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.