پس نگاہ کوئی لو بھڑکتی رہتی ہے
یہ رات میرے بدن پر سرکتی رہتی ہے
میں آپ اپنے اندھیروں میں بیٹھ جاتا ہوں
پھر اس کے بعد کوئی شے چمکتی رہتی ہے
ندی نے پاؤں چھوئے تھے کسی کے اس کے بعد
یہ موج تند فقط سر پٹکتی رہتی ہے
میں اپنے پیکر خاکی میں ہوں مگر مری روح
کہاں کہاں مری خاطر بھٹکتی رہتی ہے
ذرا سی دیر جو ہوتی ہے اس کی بارش لمس
تو مدتوں مری مٹی مہکتی رہتی ہے
Sabhi Rang Tumhare Nikle
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.