Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے

امت شرما میت

نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے

امت شرما میت

نظر بھر کے یوں جو مجھے دیکھتا ہے

بتا بھی دے مجھ کو کہ کیا سوچتا ہے

محبت نہیں جیسے کیا کر لیا ہو

زمانہ مجھے اس قدر ٹوکتا ہے

دسمبر کی سردی ہے اس کے ہی جیسی

ذرا سا جو چھو لے بدن کانپتا ہے

لگایا ہے دل بھی تو پتھر سے میں نے

مری زندگی کی یہی اک خطا ہے

جسے دیکھ کے غم بھی رستہ بدل دے

وہ چہرہ نہ جانے کہاں لاپتہ ہے

کوئی بات دل میں یقیناً ہی ہے جو

وہ ملتے ہوئے غور سے دیکھتا ہے

اسی کی گلی کا کوئی ایک لڑکا

محبت کا مجھ سے ہنر پوچھتا ہے

نہ ڈھونڈھو کہیں بھی ملوں گا یہیں پہ

یہ اجڑی حویلی ہی میرا پتہ ہے

کوئی فرق پڑتا نہیں میتؔ کو اب

جہاں اس کے بارے میں کیا سوچتا ہے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے