پتہ نہیں ہے کہ کیسے پسند آیا مجھے (ردیف .. ن)
پتہ نہیں ہے کہ کیسے پسند آیا مجھے
کہ میں تو پھولوں میں بھی خامیاں نکالتا ہوں
عجب اداسی ہے وہ بھی نہیں ہے جس کا علاج
کہ آج کل تو ملاقات کل پہ ٹالتا ہوں
ترقی یافتہ شہروں کی لڑکیوں کی قسم
میں پھول بیچ کے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.