جیسے صحرا کو ملے ہوتے ہیں برسات کے زخم
جیسے صحرا کو ملے ہوتے ہیں برسات کے زخم
ویسے دل پر ہیں مرے تیری ملاقات کے زخم
پہلے لمحوں میں ملی ہجر کی سوغات مجھے
پھر زمانے نے دیے اور بھی حالات کے زخم
ہم نے چاہا تھا کہ دل کھول کے عرض دل ہو
پر نصیبوں میں رہے صرف مناجات کے زخم
ابر برسے بھی تو دل کو نہ ملا کوئی قرار
کیسے چھپتے ہیں بھلا موسم برسات کے زخم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.