Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جیسے صحرا کو ملے ہوتے ہیں برسات کے زخم

ذیشان علی ساحل

جیسے صحرا کو ملے ہوتے ہیں برسات کے زخم

ذیشان علی ساحل

MORE BYذیشان علی ساحل

    جیسے صحرا کو ملے ہوتے ہیں برسات کے زخم

    ویسے دل پر ہیں مرے تیری ملاقات کے زخم

    پہلے لمحوں میں ملی ہجر کی سوغات مجھے

    پھر زمانے نے دیے اور بھی حالات کے زخم

    ہم نے چاہا تھا کہ دل کھول کے عرض دل ہو

    پر نصیبوں میں رہے صرف مناجات کے زخم

    ابر برسے بھی تو دل کو نہ ملا کوئی قرار

    کیسے چھپتے ہیں بھلا موسم برسات کے زخم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے