Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نیند کے گہرے سمندر میں جہاں غرقاب تھا

قتیل شفائی

نیند کے گہرے سمندر میں جہاں غرقاب تھا

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    نیند کے گہرے سمندر میں جہاں غرقاب تھا

    ایک میں ساحل پہ تھا سو ماہیٔ بے آب تھا

    کیا بتاؤں دوستو ان کے خیال آنے کا حال

    جھلملاتی جھیل میں رقصاں کوئی مہتاب تھا

    اس نے جھٹکا اپنی بھیگی زلف کو اور اس کے بعد

    دور تک پھیلا ہوا سایوں کا اک سیلاب تھا

    میرا ماضی اور کیا دیتا مجھے اس کے سوا

    پھول تھے شہنائیاں تھیں بستر کم خواب تھا

    سوچتا رہتا ہوں آنکھیں بند کر کے رات دن

    میں نے دیکھا جو کھلی آنکھوں وہ کیسا خواب تھا

    بہہ گئے آنکھوں سے جب آنسو تو یاد آیا مجھے

    اک جہان آرزو آباد زیر آب تھا

    عمر گزری ساحلوں پر سیپیاں چنتے ہوئے

    جس میں گوہر بھی ہو کوئی وہ صدف نایاب تھا

    دور سے ہوتا رہا جس پر ستارے کا گماں

    جب قریب آیا تو وہ بھی کرمک شب تاب تھا

    بر سر محفل سبھی نے پا لیا اعزاز جام

    ایک دیوانہ ترا ناواقف آداب تھا

    میری کشتی کے لیے آغوش پھیلاتے ہوئے

    یا خدا کی ذات تھی یا حلقۂ گرداب تھا

    خواب کے مانند مجھ کو یاد آتا ہے قتیلؔ

    دل کا یہ صحرا کبھی اک قریۂ شاداب تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے