نیند کے گہرے سمندر میں جہاں غرقاب تھا
نیند کے گہرے سمندر میں جہاں غرقاب تھا
ایک میں ساحل پہ تھا سو ماہیٔ بے آب تھا
کیا بتاؤں دوستو ان کے خیال آنے کا حال
جھلملاتی جھیل میں رقصاں کوئی مہتاب تھا
اس نے جھٹکا اپنی بھیگی زلف کو اور اس کے بعد
دور تک پھیلا ہوا سایوں کا اک سیلاب تھا
میرا ماضی اور کیا دیتا مجھے اس کے سوا
پھول تھے شہنائیاں تھیں بستر کم خواب تھا
سوچتا رہتا ہوں آنکھیں بند کر کے رات دن
میں نے دیکھا جو کھلی آنکھوں وہ کیسا خواب تھا
بہہ گئے آنکھوں سے جب آنسو تو یاد آیا مجھے
اک جہان آرزو آباد زیر آب تھا
عمر گزری ساحلوں پر سیپیاں چنتے ہوئے
جس میں گوہر بھی ہو کوئی وہ صدف نایاب تھا
دور سے ہوتا رہا جس پر ستارے کا گماں
جب قریب آیا تو وہ بھی کرمک شب تاب تھا
بر سر محفل سبھی نے پا لیا اعزاز جام
ایک دیوانہ ترا ناواقف آداب تھا
میری کشتی کے لیے آغوش پھیلاتے ہوئے
یا خدا کی ذات تھی یا حلقۂ گرداب تھا
خواب کے مانند مجھ کو یاد آتا ہے قتیلؔ
دل کا یہ صحرا کبھی اک قریۂ شاداب تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.