Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے

اظہر عنایتی

جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے

اظہر عنایتی

جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے

اتنے گھنے درختوں سے پتے گرے نہ تھے

اظہار پر تو پہلے بھی پابندیاں نہ تھیں

لیکن بڑوں کے سامنے ہم بولتے نہ تھے

ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں

ہم سایے کا مگر وہ گلا کاٹتے نہ تھے

پہلے بھی لوگ ملتے تھے لیکن تعلقات

انگڑائی کی طرح تو کبھی ٹوٹتے نہ تھے

پکے گھروں نے نیند بھی آنکھوں کی چھین لی

کچے گھروں میں رات کو ہم جاگتے نہ تھے

رہتے تھے داستانوں کے ماحول میں مگر

کیا لوگ تھے کہ جھوٹ کبھی بولتے نہ تھے

اظہرؔ وہ مکتبوں کے پڑھے معتبر تھے لوگ

بیساکھیوں پہ صرف سند کی کھڑے نہ تھے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے