اس سے امید رو نمائی ہے
اس سے امید رو نمائی ہے
وہ کہ جو شکل کبریائی ہے
تم نے اے کشتۂ نظارۂ طور
موت بھی کیا حسین پائی ہے
جان کر تم سے دل لگایا ہے
ہاں ہمیں شوق خود فنائی ہے
زندگی کو تمہاری فرقت میں
لمحہ لمحہ پہ موت آئی ہے
کچھ مرے دل کا بھی قصور ہے اور
کچھ تمہاری بھی دلربائی ہے
نہ انہوں نے نقاب الٹی ہے
نہ تو یہ آنکھ باز آئی ہے
ہر جگہ بھی ہے اور ہے بھی ۔۔۔نہیں
اس کا یہ بھی ہنر خدائی ہے
تیرے آنے سے باغ عالم میں
قبل موسم بہار آئی ہے
تم کو میں تو خدا نہیں کہتا
یہ زباں ہے جو لڑکھڑائی ہے
قبر پر ہے رمقؔ کی یہ کندہ
تم نہ آئے تو موت آئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.