Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تاروں کا جھومر پھنایا پھولوں کی ساری باندھی

احمد علوی

تاروں کا جھومر پھنایا پھولوں کی ساری باندھی

احمد علوی

MORE BYاحمد علوی

    تاروں کا جھومر پھنایا پھولوں کی ساری باندھی

    موسم کی زلفوں میں کس نے ست رنگی تتلی باندھی

    وادی وادی مہک رہی ہے اس کے ہاتھ کی چائے سے

    کہرے کی چادر میں کس نے ادرک اور تلسی باندھی

    جیون بھر یہ جینا مرنا دھوپ چھاؤں کا کھیل رہا

    جیون بھر آشاؤں کی گٹھری کھولی گٹھری باندھی

    سینے سے اٹھتی لپٹوں کی شدت کم ہو جاتی ہے

    صحرا سی آنکھوں سے ہم نے ساون کی بدلی باندھی

    میں بھی کیسا پیڑ ہوں یارو پھر بھی سبز نہیں ہوتا

    سر پہ دھوپ کا سایا رکھا پاؤں سے ندی باندھی

    کمروں میں دو سائے علویؔ ایک ہوئے جب بھی چھپ کر

    سڑکوں پر کتنے لوگوں نے باتوں کی پگڑی باندھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے