تاروں کا جھومر پھنایا پھولوں کی ساری باندھی
تاروں کا جھومر پھنایا پھولوں کی ساری باندھی
موسم کی زلفوں میں کس نے ست رنگی تتلی باندھی
وادی وادی مہک رہی ہے اس کے ہاتھ کی چائے سے
کہرے کی چادر میں کس نے ادرک اور تلسی باندھی
جیون بھر یہ جینا مرنا دھوپ چھاؤں کا کھیل رہا
جیون بھر آشاؤں کی گٹھری کھولی گٹھری باندھی
سینے سے اٹھتی لپٹوں کی شدت کم ہو جاتی ہے
صحرا سی آنکھوں سے ہم نے ساون کی بدلی باندھی
میں بھی کیسا پیڑ ہوں یارو پھر بھی سبز نہیں ہوتا
سر پہ دھوپ کا سایا رکھا پاؤں سے ندی باندھی
کمروں میں دو سائے علویؔ ایک ہوئے جب بھی چھپ کر
سڑکوں پر کتنے لوگوں نے باتوں کی پگڑی باندھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.