Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں نے یوں ان سرد لبوں کو رکھا ان رخساروں پر

شاعر جمالی

میں نے یوں ان سرد لبوں کو رکھا ان رخساروں پر

شاعر جمالی

میں نے یوں ان سرد لبوں کو رکھا ان رخساروں پر

جیسے کوئی بھول سے رکھ دے پھولوں کو انگاروں پر

چھپ گیا عید کا چاند نکل کر دیر ہوئی پر جانے کیوں

نظریں اب تک ٹکی ہوئی ہیں مسجد کے میناروں پر

آتی جاتی سانسوں پر وہ دل کے تڑپنے کا عالم

جیسے کوئی ناچ رہا ہو دو دھاری تلواروں پر

برسوں بعد جو گھر میں لوٹا دیکھ کے آنکھیں بھر آئیں

اب تک ان کا نام لکھا تھا گھر کی سب دیواروں پر

موسم گل پھر آیا شاید پھر اک وحشت جاگ اٹھی

وہ دیکھو سبزہ اگ آیا زنداں کی دیواروں پر

پیروں میں باندھے بیٹھے ہیں ہم خود ہی زنجیر معاش

اور یاروں نے جست لگا دی دیکھو چاند ستاروں پر

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے