میسر ان کے ہاتھوں سے تجھے اک جام ہو جائے
میسر ان کے ہاتھوں سے تجھے اک جام ہو جائے
بہت ممکن ہے واعظ تو عمر خیامؔ ہو جائے
مزاج عشق میں شامل ہو بے چینی تو کیا کیجے
مسافر کو کسی جنگل میں جیسے شام ہو جائے
یہ میری کور چشمی ہے یا خودداری یہ تم جانو
نظر اس پر نہیں کرتا جو جلوہ عام ہو جائے
دماغوں کی جگہ دل سے جو تھوڑا کام لے لیں ہم
بہت آسان ہو جائے بڑا آرام ہو جائے
ادےؔ دیر و حرم میں بیٹھ کر یہ عقل کی باتیں
کہیں ایسا نہ ہو کافر تمہارا نام ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.