Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ کانچ کے خوابوں سے ٹکرائی ہوئی آنکھیں

احمد علوی

یہ کانچ کے خوابوں سے ٹکرائی ہوئی آنکھیں

احمد علوی

MORE BYاحمد علوی

    یہ کانچ کے خوابوں سے ٹکرائی ہوئی آنکھیں

    دہلیز پہ رکھی ہیں پتھرائی ہوئی آنکھیں

    اک چاند کے ٹکڑے کے دیدار کو برسوں سے

    کیا دیکھ سکو گے تم ترسائی ہوئی آنکھیں

    جب وقت ذرا ہم سے کترا کے ذرا گزرا

    دیکھی ہیں بہت ہم نے کترائی ہوئی آنکھیں

    سورج سی چمکتی ہیں راتوں کے اندھیروں میں

    یہ آنکھوں کے پانی سے نہلائی ہوئی آنکھیں

    پہچانے ہوئے چہرے پہچانے نہیں جاتے

    ٹھہرے ہوئے پانی سے دھندلائی ہوئی آنکھیں

    علویؔ تری غزلوں کا لہجہ ہے کھرا سونا

    ہر ذہن پہ ہر دل پر یہ چھائی ہوئی آنکھیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے