یہ کانچ کے خوابوں سے ٹکرائی ہوئی آنکھیں
یہ کانچ کے خوابوں سے ٹکرائی ہوئی آنکھیں
دہلیز پہ رکھی ہیں پتھرائی ہوئی آنکھیں
اک چاند کے ٹکڑے کے دیدار کو برسوں سے
کیا دیکھ سکو گے تم ترسائی ہوئی آنکھیں
جب وقت ذرا ہم سے کترا کے ذرا گزرا
دیکھی ہیں بہت ہم نے کترائی ہوئی آنکھیں
سورج سی چمکتی ہیں راتوں کے اندھیروں میں
یہ آنکھوں کے پانی سے نہلائی ہوئی آنکھیں
پہچانے ہوئے چہرے پہچانے نہیں جاتے
ٹھہرے ہوئے پانی سے دھندلائی ہوئی آنکھیں
علویؔ تری غزلوں کا لہجہ ہے کھرا سونا
ہر ذہن پہ ہر دل پر یہ چھائی ہوئی آنکھیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.