تیری خاطر کس نے اپنی جان گنوا دی شہزادی
تیری خاطر کس نے اپنی جان گنوا دی شہزادی
تو کیا جانے خواب کدے میں رہنے والی شہزادی
تیرے حسن کے چرچے سن کر دشمن کا لشکر آیا
چھین لی تو نے ساری بستی کی آزادی شہزادی
کب کی رینا بیتی جلتا سورج سر پہ چڑھ آیا
کب تک ریشم کے بستر پر سوئی رہے گی شہزادی
تو شاہی محلوں کی رونق میں اک مفلس کاریگر
تیرے میرے بیچ یہ گہری کیوں ہے کھائی شہزادی
ہم لوگوں کی بستی میں کیوں پنیہ کمانے آتی ہے
ہم لوگوں سے کیوں کرتی ہے باتیں شاہی شہزادی
جو بنجارہ اک وعدے پر دریا پار سے آیا تھا
تیرے تغافل نے اس کو کیا دیکھ سزا دی شہزادی
نہ پوری پہچان ملی نہ ملا وہ پورا شہزادہ
جیسے آدھا عشق ادھورا ویسے آدھی شہزادی
لگتی تھی اک دیوانے کی ہر خواہش بار خاطر
کیسے اب ہر بات پہ ہو جاتی ہے راضی شہزادی
ہم سیدھی سادی راہوں پر بھی ڈر ڈر چلنے والے
اس کا رتبہ اونچا الھڑ مست پہاڑی شہزادی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.