نہ پھولوں نے لوٹا نہ خاروں نے لوٹا
نہ پھولوں نے لوٹا نہ خاروں نے لوٹا
مجھے دل کے جھوٹے سہاروں نے لوٹا
نوازا کیے جو نئی حسرتوں سے
انہیں مست و بے خود اشاروں نے لوٹا
نہ گل مسکراتے نہ کوندے لپکتے
مرا آشیانہ بہاروں نے لوٹا
جو اکثر تری چشم پر نم سے ٹپکے
مجھے ان برستے ستاروں نے لوٹا
جنہیں دل میں رکھا تھا ارماں سمجھ کر
مرا چین ان بے قراروں نے لوٹا
منیرؔ آس کی شاہ راہوں پہ لا کے
جوانی کے رنگیں نظاروں نے لوٹا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.