ہم ایسے لوگ کہ لگتے ہیں بے اماں کتنے
ہم ایسے لوگ کہ لگتے ہیں بے اماں کتنے
اٹھائے پھرتے ہیں کاندھوں پہ آسماں کتنے
ہر ایک تار سلامت ہے جیب و دامن کا
گئے ہیں دن مری وحشت کے رائیگاں کتنے
زمین شق نہ ہوئی اور نہ آسمان گرا
ہم اپنے نالے کو لے کر تھے خوش گماں کتنے
ہماری شاخ تمنا نہ رہ سکے شاداب
اتر رہے ہیں یہاں موسم خزاں کتنے
لگا بھی دیں جو نمائش ہم اپنے زخموں کی
ندیمؔ آئیں گے پرسش کو مہرباں کتنے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.