دل باغ کی عزیز کلی چھین لی گئی
دل باغ کی عزیز کلی چھین لی گئی
وہ لازمی تھی اور وہی چھین لی گئی
پہلے ہماری آنکھوں کی چھینی گئی چمک
پھر دھیرے دھیرے کر کے نمی چھین لی گئی
میں چاہتا تھا مجھ کو خدا کر دے سب عطا
سب کچھ عطا ہوا تو کمی چھین لی گئی
وعدہ ہے ٹھیک ویسے ہی چھینوں گا سب کے غم
جیسے کہ مجھ سے میری خوشی چھین لی گئی
سب سیپیاں نکال کے دریا کے پیٹ سے
دریا سے اس کی دریا دلی چھین لی گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.