دستکیں دیتی رہی تنہائی
دستکیں دیتی رہی تنہائی
دل کو خلوت نہ میسر آئی
لو نہ ابھری تھی چراغوں کی ابھی
آنکھ میں ڈوب گئی بینائی
کلیاں چٹکی تھیں کہیں قدموں کی
دل کی دھڑکن نے قیامت ڈھائی
کتنے زخموں کو چھپا لیتی ہے
ہنستے چہروں کی شفق آرائی
راستے تو نہیں دشوار بہت
راہزن ہو نہ شکستہ پائی
اپنی تدبیر پہ تھا ناز جسے
آج حیراں ہے وہی دانائی
جھیل میں چاند ہی گر جائے صمدؔ
کب سے پانی پہ جمی ہے کائی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.