Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے

تعشق لکھنوی

محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے

تعشق لکھنوی

محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے

سب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھے

ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی

سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے

سودا تری زلفوں کا گیا ساتھ ہمارے

مر کر بھی نہ چھوٹے وہ گرفتار ہمیں تھے

کل رات کو دیکھا تھا جسے خواب میں تم نے

رخسار پہ رکھے ہوئے رخسار ہمیں تھے

دل سوختہ تھے چاہنے والوں میں تمہارے

لیکن سبب گرمئ بازار ہمیں تھے

کل کوچۂ قاتل میں جو تھا خلق کا مجمع

کھائے ہوئے اس ہاتھ کی تلوار ہمیں تھے

اے عشق مژہ کون ہمیں دیکھنے آتا

آنکھوں میں کھٹکتے تھے وہ بیمار ہمیں تھے

تربت میں بھی آنکھیں نہ ہوئیں بند ہماری

ایسے ترے اک طالب دیدار ہمیں تھے

ٹھنڈے کئے غیروں کے دل اور ہم کو جلایا

اک تھے تو محبت کے گنہ گار ہمیں تھے

ملتے ہی لب یار سے لب دل نکل آیا

مارا جسے عیسیٰ نے وہ بیمار ہمیں تھے

تم غیروں سے ڈر ڈر کے لپٹ جاتے تھے پیہم

کل رات کو نالاں پس دیوار ہمیں تھے

سب راز تعشقؔ سے بیاں ہوتے تھے دل کے

پہلے ترے اک محرم اسرار ہمیں تھے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے