Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے

حسن نعیم

کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے

حسن نعیم

کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے

ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے

کوہ سے نیچے اتر کر کنکری چنتے ہیں اب

عشق میں جو آب جو تھے جنگ میں سیلاب تھے

ساز و ساماں تھے ظفر کے پر وہ شب میں لٹ گئے

خاک و خوں کے درمیاں کچھ خواب کچھ کم خواب تھے

کیا دم رخصت نظر آتے خطوط دلبری

نقش تھے اس چاند کے لیکن بہ شکل آب تھے

میں عدو کی جستجو میں تھا کہ اک پتھر لگا

مڑ کے دیکھا تو سناں تانے ہوئے احباب تھے

تھے بہت نایاب وہ نور قلم زور بیاں

شعلہ اٹھا جب جنوں کا پھر وہی نایاب تھے

کیا فراقؔ و فیضؔ سے لینا تھا مجھ کو اے نعیمؔ

میرے آگے فکر و فن کے کچھ نئے آداب تھے

RECITATIONS

نعمان شوق

نعمان شوق,

00:00/00:00
نعمان شوق

کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے نعمان شوق

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے