آواز ہم اٹھائیں گے کردار دیکھ کر
آواز ہم اٹھائیں گے کردار دیکھ کر
ڈرتے نہیں ہیں ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
کچھ تو بتائیں جن کو حکومت پہ ناز ہے
کیا بولنا ہے کوچہ و بازار دیکھ کر
آئے تھے میرے قتل کو تیاریوں کے ساتھ
تیغیں پلٹ گئیں مجھے تیار دیکھ کر
کرنے لگے قلم یہاں ڈر کی غلامیاں
بولی لگی زباں کی خریدار دیکھ کر
منزل قریب ہو کے بھی لگتا ہے دور ہے
تھکنے لگے ہیں پاؤں چمن زار دیکھ کر
رازیؔ سے ہم کلام تو اکثر ہوئے مگر
ہم گفتگو کریں انہیں اک بار دیکھ کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.