Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شام کی رانی جو آئی ہے ٹہلنے کے لیے

خواب دہلوی

شام کی رانی جو آئی ہے ٹہلنے کے لیے

خواب دہلوی

MORE BYخواب دہلوی

    شام کی رانی جو آئی ہے ٹہلنے کے لیے

    شہر تیار ہے قالین بدلنے کے لیے

    اس کے سواگت میں پرندے بھی چہک اٹھے ہیں

    جس نے اب توڑ دیں بیساکھیاں چلنے کے لیے

    ایک دیوانہ مہارت سے غزل کہتا ہے

    اس کو اک نوکری بیٹھی ہے نگلنے کے لیے

    کتنے ایام کے امکاں ہیں تصور میں مرے

    اک صدی کم ہے مری غزلوں کو ڈھلنے کے لیے

    پانی دیتے ہیں امیدوں کو کڑی دھوپ میں ہم

    صبر کرتے ہیں ثمر شاخ پہ پھلنے کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے