Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سودائے سراب دے گئے ہیں

حفیظ تائب

سودائے سراب دے گئے ہیں

حفیظ تائب

MORE BYحفیظ تائب

    سودائے سراب دے گئے ہیں

    کیا کچھ ہمیں خواب دے گئے ہیں

    روحوں کی سپاٹ وسعتوں کو

    حیرت کے سحاب دے گئے ہیں

    سوچوں کی اداس ٹہنیوں کو

    زخموں کے گلاب دے گئے ہیں

    سانسوں کی خموش ندیوں کو

    موجوں کے رباب دے گئے ہیں

    جذبات کی خشک کھیتیوں کو

    سیلاب عذاب دے گئے ہیں

    ویران دلوں کے ساحلوں کو

    کیا کیا در ناب دے گئے ہیں

    قرنوں کے اجاڑ راستوں کو

    لمحوں کے شہاب دے گئے ہیں

    جھیلوں کے دراز دامنوں کو

    عکسوں کی کتاب دے گئے ہیں

    برسوں کے تھکے مسافروں کو

    عرصوں کا نصاب دے گئے ہیں

    آہستہ خرام موسموں کو

    شور تب و تاب دے گئے ہیں

    کچھ چہرے بکھرتی جھریوں کو

    اندوہ شباب دے گئے ہیں

    اچھا ہے وہ ہم زیاں کشوں کو

    ادراک حساب دے گئے ہیں

    ہر آن نئے سوال تائبؔ

    اعصاب جواب دے گئے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے