سودائے سراب دے گئے ہیں
سودائے سراب دے گئے ہیں
کیا کچھ ہمیں خواب دے گئے ہیں
روحوں کی سپاٹ وسعتوں کو
حیرت کے سحاب دے گئے ہیں
سوچوں کی اداس ٹہنیوں کو
زخموں کے گلاب دے گئے ہیں
سانسوں کی خموش ندیوں کو
موجوں کے رباب دے گئے ہیں
جذبات کی خشک کھیتیوں کو
سیلاب عذاب دے گئے ہیں
ویران دلوں کے ساحلوں کو
کیا کیا در ناب دے گئے ہیں
قرنوں کے اجاڑ راستوں کو
لمحوں کے شہاب دے گئے ہیں
جھیلوں کے دراز دامنوں کو
عکسوں کی کتاب دے گئے ہیں
برسوں کے تھکے مسافروں کو
عرصوں کا نصاب دے گئے ہیں
آہستہ خرام موسموں کو
شور تب و تاب دے گئے ہیں
کچھ چہرے بکھرتی جھریوں کو
اندوہ شباب دے گئے ہیں
اچھا ہے وہ ہم زیاں کشوں کو
ادراک حساب دے گئے ہیں
ہر آن نئے سوال تائبؔ
اعصاب جواب دے گئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.