کون ہے جس نے یہاں اپنی کوئی تدبیر کی
کون ہے جس نے یہاں اپنی کوئی تدبیر کی
نقل کرتے آ رہے ہیں اب تلک سب میر کی
بن گئی وہ سر ورق میری کتاب ذات کا
آپ نے جو اک نظر اس جسم پر تحریر کی
حاضری دینے کو غم ہر روز جاتے ہیں وہاں
دل بھی گویا قبر ہو جیسے کسی دلگیر کی
ہم نے بھی زندان سے ایسے نبھائی ہے وفا
کاٹ دی ہے عمر کڑیاں چومتے زنجیر کی
ناز سے اترا رہی ہے وہ تمہارے ساتھ پر
یعنی مجھ سے اچھی قسمت ہے مری تصویر کی
رات بھر اک پھول کو چوما ہے میں نے خواب میں
صبح ماتھا چوم کر اس خواب کی تعبیر کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.