ہر ایک درد کو اپنا بنا کے رکھا ہے
ہر ایک درد کو اپنا بنا کے رکھا ہے
یہ اپنے آپ کو کیسا بنا کے رکھا ہے
کسی نے حسن سے آگے اسے نہیں دیکھا
سبھی نے چاند کا ٹکڑا بنا کے رکھا ہے
بڑے سکون سے وہ سو رہی ہے اور اس نے
ہمارے ہاتھ کو تکیہ بنا کے رکھا ہے
میں ٹوٹ جاؤں گا پتھر نہ مارنا مجھ کو
تمہارے پیار نے شیشہ بنا کے رکھا ہے
تمہاری زلف کو ہاتھوں سے میں سنواروں گا
اسی خیال کو سپنا بنا کے رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.