Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیپ چپکے سے جلانے آئے

پرویز شیخ

دیپ چپکے سے جلانے آئے

پرویز شیخ

MORE BYپرویز شیخ

    دیپ چپکے سے جلانے آئے

    جب ترے خواب سہانے آئے

    ہم نے چاہا تھا بھلا دیں ان کو

    پر وہی یاد دلانے آئے

    ذکر جب چھیڑا وفاؤں کا کبھی

    لوگ کچھ داغ دکھانے آئے

    رات بھر چاند سے باتیں کیں ہے

    صبح آنسو یہ بتانے آئے

    وقت کیا آیا ہمارا کچھ لوگ

    راہ میں کانچ بچھانے آئے

    اس کی چوکھٹ سے گزرتے ہی مجھے

    یاد کچھ زخم پرانے آئے

    وعدۂ وصل کیا تھا پرویزؔ

    کاش وعدہ وہ نبھانے آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے