دیپ چپکے سے جلانے آئے
دیپ چپکے سے جلانے آئے
جب ترے خواب سہانے آئے
ہم نے چاہا تھا بھلا دیں ان کو
پر وہی یاد دلانے آئے
ذکر جب چھیڑا وفاؤں کا کبھی
لوگ کچھ داغ دکھانے آئے
رات بھر چاند سے باتیں کیں ہے
صبح آنسو یہ بتانے آئے
وقت کیا آیا ہمارا کچھ لوگ
راہ میں کانچ بچھانے آئے
اس کی چوکھٹ سے گزرتے ہی مجھے
یاد کچھ زخم پرانے آئے
وعدۂ وصل کیا تھا پرویزؔ
کاش وعدہ وہ نبھانے آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.