آنکھ میں چبھتا رہا اک خواب تو
آنکھ میں چبھتا رہا اک خواب تو
کیا قیامت ہو اگر ہو رو بہ رو
پھر کبھی کہنے کو بیٹھوں گا غزل
درد لکھتا ہوں لہو سے مو بہ مو
ہم گزاریں عمر زیبا آپ بن
ہو رہی ہے اب یہ ان سے گفتگو
ذرہ ذرہ کر گئی ہے وہ مجھے
ریزہ ریزہ چن رہا ہوں چار سو
ہوں ترے پیکر سے واقف نازنیں
بول تو کر دوں بیاں میں مو بہ مو
در بہ در رہتا ہوں میں بھی شوق سے
وہ بھی تو ملتی ہے مجھ کو کو بہ کو
ان کو تو کرنے لگیں سجدے غزال
یوں کروں آغوش ان کی مشک بو
آپ کی اب تک درخشانی جواں
پڑ چکی ہے دھیمی میری آبرو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.