Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خودی کا راز اگر اس نے آشکار کیا

نظیر علی عدیل

خودی کا راز اگر اس نے آشکار کیا

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    خودی کا راز اگر اس نے آشکار کیا

    اسے زبان نہ دی جس کو راز دار کیا

    اس اہتمام سے وعدے پر اعتبار کیا

    لگا کے عمر کا سرمایہ انتظار کیا

    سکون پانے کو ہم نے خیال یار کیا

    خیال یار نے کچھ اور بے قرار کیا

    کیا جنون میں جب تک لحاظ یار کیا

    پھر اس کے بعد گریباں کو تار تار کیا

    کبھی وفا نے اجازت نہ دی تڑپنے کی

    وفور غم نے تقاضہ تو بار بار کیا

    ہے اعتبار کوئی جرم تو سزا دیجے

    گناہ گار نے رحمت پہ اعتبار کیا

    اگر ہو حشر میں پرسش تو ہم بھی پوچھیں گے

    گناہ گار کو کس نے گناہ گار کیا

    کلی کی عمر نہ کیوں مسکراتے گزرے گی

    کھلی جب آنکھ تو نظارۂ بہار کیا

    عدیلؔ دوست سے دشمن ہی پھر غنیمت ہے

    کیا جب اس نے مقابل میں آ کے وار کیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے