خودی کا راز اگر اس نے آشکار کیا
خودی کا راز اگر اس نے آشکار کیا
اسے زبان نہ دی جس کو راز دار کیا
اس اہتمام سے وعدے پر اعتبار کیا
لگا کے عمر کا سرمایہ انتظار کیا
سکون پانے کو ہم نے خیال یار کیا
خیال یار نے کچھ اور بے قرار کیا
کیا جنون میں جب تک لحاظ یار کیا
پھر اس کے بعد گریباں کو تار تار کیا
کبھی وفا نے اجازت نہ دی تڑپنے کی
وفور غم نے تقاضہ تو بار بار کیا
ہے اعتبار کوئی جرم تو سزا دیجے
گناہ گار نے رحمت پہ اعتبار کیا
اگر ہو حشر میں پرسش تو ہم بھی پوچھیں گے
گناہ گار کو کس نے گناہ گار کیا
کلی کی عمر نہ کیوں مسکراتے گزرے گی
کھلی جب آنکھ تو نظارۂ بہار کیا
عدیلؔ دوست سے دشمن ہی پھر غنیمت ہے
کیا جب اس نے مقابل میں آ کے وار کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.