بد نام رہا ہوں کبھی مشہور رہا ہوں
بد نام رہا ہوں کبھی مشہور رہا ہوں
ہر شخص کی آنکھوں کا مگر نور رہا ہوں
اک عمر ہوئی تجھ سے مراسم بھی نہیں ہے
اک عمر ترے نام سے مشہور رہا ہوں
میرے ہی پسینے سے مہکتی ہے یہ بستی
اک عمر تلک میں یہیں مزدور رہا ہوں
میں نے ہی سجائی ہے ادب کی یہ حویلی
میں ہی تو کبھی میرؔ کبھی سورؔ رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.