آداب نہ سجدہ ہے نمسکار نہیں ہے
آداب نہ سجدہ ہے نمسکار نہیں ہے
کہتا ہے اسے ہم سے سروکار نہیں ہے
آنکھیں تو عنایت کے اجالوں سے بھری ہیں
پر عشق کے اظہار کو تیار نہیں ہے
اے دل یہ بتا دے کہ اسے کیسے سزا دوں
جو میری نگاہوں میں گنہگار نہیں ہے
دنیا کی تمنا ہے اسے اپنا بنا لوں
مشکل تو یہی ہے کہ وہ تیار نہیں ہے
جی میں ہے مجھے آنکھوں سے وہ جام پلائے
وہ چائے پلانے کو بھی تیار نہیں ہے
کس کس کو سناؤں میں مقدر کا فسانہ
پہلے جو مددگار تھا اس بار نہیں ہے
وہ کون ہے جس نے نہ پڑھے اس کے قصیدے
وہ کون ہے جو اس کا طلبگار نہیں ہے
دیکھو نہ ہمیں ایسے حقارت کی نظر سے
اتنا بھی بڑا آپ کا معیار نہیں ہے
تلوار ہو گردن پہ بھلے جاں پہ بنی ہو
جو سچ نہ کہے سچا قلم کار نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.