خود اپنی خواہشیں خاک بدن میں بونے کو
خود اپنی خواہشیں خاک بدن میں بونے کو
مرا وجود ترستا ہے میرے ہونے کو
یہ دیکھنا ہے کہ باری مری کب آئے گی
کھڑا ہوں ساحل دریا پہ لب بھگونے کو
ابھی سے کیا رکھیں آنکھوں پہ سارے دن کا حساب
ابھی تو رات پڑی ہے یہ بوجھ ڈھونے کو
نہ کوئی تکیۂ غم ہے نہ کوئی چادر خواب
ہمیں یہ کون سا بستر ملا ہے سونے کو
وہ دور تھا تو بہت حسرتیں تھیں پانے کی
وہ مل گیا ہے تو جی چاہتا ہے کھونے کو
वाहिमा वुजूद का
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.