گھر کی دیواروں سے باہر اپنے ماتھے زرد نہ تھے
گھر کی دیواروں سے باہر اپنے ماتھے زرد نہ تھے
ہرے بھرے یوں ابھرے جیسے روگ کے چشمے زرد نہ تھے
آخر کیا ہونے والا تھا جو بستی پر ہو گزرا
کل آنکھیں تو پھٹی پھٹی تھیں لیکن چہرے زرد نہ تھے
ہم اٹھ آئے تو پچھم سے شاید سونا برسا ہو
تب تک تو ان دیواروں سے لپٹے سائے زرد نہ تھے
تھک کر لیٹ گئے تو ہر سو پیلی ریت دکھائی دی
آنکھ میں خون اتر آیا تو دیکھا ٹیلے زرد نہ تھے
شام بچھی چوپال بسے پھر ان لوگوں کی بات چلی
جو اب سب مٹی رنگے تھے کالے گورے زرد نہ تھے
یارو اب کے جاڑوں آخر کیسی جھڑیاں برسی ہیں
پچھلی بار تو اس بیری پر پتے اتنے زرد نہ تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.