Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گھر کی دیواروں سے باہر اپنے ماتھے زرد نہ تھے

مبارک حیدر

گھر کی دیواروں سے باہر اپنے ماتھے زرد نہ تھے

مبارک حیدر

MORE BYمبارک حیدر

    گھر کی دیواروں سے باہر اپنے ماتھے زرد نہ تھے

    ہرے بھرے یوں ابھرے جیسے روگ کے چشمے زرد نہ تھے

    آخر کیا ہونے والا تھا جو بستی پر ہو گزرا

    کل آنکھیں تو پھٹی پھٹی تھیں لیکن چہرے زرد نہ تھے

    ہم اٹھ آئے تو پچھم سے شاید سونا برسا ہو

    تب تک تو ان دیواروں سے لپٹے سائے زرد نہ تھے

    تھک کر لیٹ گئے تو ہر سو پیلی ریت دکھائی دی

    آنکھ میں خون اتر آیا تو دیکھا ٹیلے زرد نہ تھے

    شام بچھی چوپال بسے پھر ان لوگوں کی بات چلی

    جو اب سب مٹی رنگے تھے کالے گورے زرد نہ تھے

    یارو اب کے جاڑوں آخر کیسی جھڑیاں برسی ہیں

    پچھلی بار تو اس بیری پر پتے اتنے زرد نہ تھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے