ہوتے نہیں یہ فیصلے سکے اچھال کے
ہوتے نہیں یہ فیصلے سکے اچھال کے
دل کا معاملہ ہے ذرا دیکھ بھال کے
موبائلوں کے دور کے عاشق کو کیا پتہ
رکھتے تھے کیسے خط میں کلیجہ نکال کے
آندھی اڑا کے لے گئی یہ اور بات ہے
کہنے کو ہم بھی پتے تھے مضبوط ڈال کے
جب پیار مل گیا تو سبھی رتن مل گئے
اب کیا کریں گے اور سمندر کھنگال کے
مطلب پرست دنیا کی فطرت نہ پوچھیے
کانٹے کو پھینک دیتے ہیں کانٹا نکال کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.