قحط صدا کے زخم بڑا کام کر گئے
قحط صدا کے زخم بڑا کام کر گئے
میں چپ تھا اور میرے فسانے بکھر گئے
کھلتے ہیں کشت جاں میں ابھی آہٹوں کے پھول
ہر چند انتظار کے موسم گزر گئے
آزر کا لمس ہے کہ عقیدت کے بال و پر
پتھر رواں دواں ہیں پجاری ٹھہر گئے
اب ہر کھنڈر کو ایک مکاں فرض کیجیے
مہماں کے ساتھ شہر کے دیوار و در گئے
بھونچال سے معاہدے آتش سے ساز باز
شاید مرے پہاڑ ابدیت سے ڈر گئے
برسے کہیں تو ساتھ اندھیرے بھی لائیں گے
بادل جو اک شعاع کی آواز پر گئے
اک پیش گوئی ہے کہ جہاں ڈوبتے ہیں شہر
خطرے کے اس نشان سے دریا اتر گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.