Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قحط صدا کے زخم بڑا کام کر گئے

غلام محمد قاصر

قحط صدا کے زخم بڑا کام کر گئے

غلام محمد قاصر

MORE BYغلام محمد قاصر

    قحط صدا کے زخم بڑا کام کر گئے

    میں چپ تھا اور میرے فسانے بکھر گئے

    کھلتے ہیں کشت جاں میں ابھی آہٹوں کے پھول

    ہر چند انتظار کے موسم گزر گئے

    آزر کا لمس ہے کہ عقیدت کے بال و پر

    پتھر رواں دواں ہیں پجاری ٹھہر گئے

    اب ہر کھنڈر کو ایک مکاں فرض کیجیے

    مہماں کے ساتھ شہر کے دیوار و در گئے

    بھونچال سے معاہدے آتش سے ساز باز

    شاید مرے پہاڑ ابدیت سے ڈر گئے

    برسے کہیں تو ساتھ اندھیرے بھی لائیں گے

    بادل جو اک شعاع کی آواز پر گئے

    اک پیش گوئی ہے کہ جہاں ڈوبتے ہیں شہر

    خطرے کے اس نشان سے دریا اتر گئے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے