Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل نے جب حرف تمنا کو زباں میں رکھا

ذیشان علی ساحل

دل نے جب حرف تمنا کو زباں میں رکھا

ذیشان علی ساحل

MORE BYذیشان علی ساحل

    دل نے جب حرف تمنا کو زباں میں رکھا

    میں نے خاموشی کو اک پورے بیاں میں رکھا

    عقل نے دشت طلب ناپ لیا نقش بہ نقش

    عشق نے شوق کو بس سوز نہاں میں رکھا

    ایک ہی چہرہ تھا جو گردش ایام میں بھی

    ہم نے ہر حال اسے قلب مکاں میں رکھا

    ہوش نے ضبط کی دیوار اٹھائی لیکن

    درد کو ہم نے بھی پھر آتش جاں میں رکھا

    کہہ نہ پایا جو کبھی وہ بھی فسانہ نکلا

    ہم نے انکار کو بھی لطف بیاں میں رکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے