دل کبھی مائل فغاں نہ ہوا
دل کبھی مائل فغاں نہ ہوا
قصۂ غم جو تھا بیاں نہ ہوا
غیر کی بات کیا کروں ہمدم
مجھ سے اپنا ہی غم بیاں نہ ہوا
آگے کیا ہوگا یہ کسے معلوم
وقت اب تک تو مہرباں نہ ہوا
بیچ سے بات کاٹ دی اس نے
قصۂ درد و غم بیاں نہ ہوا
زندگی کا عروج کیا جانے
وہ جو تقدیر آسماں نہ ہوا
اک خموشی ہے لاکھ گویائی
تم جو سمجھو تو کیا بیاں نہ ہوا
طبع طوفاں نواز ہے اپنی
میں کناروں کا پاسباں نہ ہوا
اپنی باتیں ہیں صبح و شام عزیزؔ
میں زمانے کا ترجماں نہ ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.