Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خفا ہو کر خیالوں میں بھی آنا چھوڑ دیتے ہیں

محمد اعظم

خفا ہو کر خیالوں میں بھی آنا چھوڑ دیتے ہیں

محمد اعظم

خفا ہو کر خیالوں میں بھی آنا چھوڑ دیتے ہیں

کسی کو یار اس درجہ بھی تنہا چھوڑ دیتے ہیں

سمجھتے ہی نہیں ہیں لوگ نا سمجھی کی مشکل کو

سہولت دیکھتے ہیں اور سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں

یہ ہم بھی جانتے ہیں ملک گیری شوق ہے بیجا

مگر ہم جیت کر فوراً علاقہ چھوڑ دیتے ہیں

ترے دو گھونٹ پی کر تشنگی بھڑکی تو یہ جانا

وہی اچھے ہیں جو بالکل پیاسا چھوڑ دیتے ہیں

ہمارے دل میں اب طاقت نہیں صدمے اٹھانے کی

بہت بھانے لگے جو اس سے ملنا چھوڑ دیتے ہیں

گزرتی ہیں جو فیل شب پہ سج دھج کر تری یادیں

ہم ان پر اپنے سگ ہائے تمنا چھوڑ دیتے ہیں

ہمارے منہ پہ اس نے آئنے سے دھوپ تک پھینکی

ابھی تک ہم سمجھ کر اس کو بچہ چھوڑ دیتے ہیں

تمہارا جیسے جی چاہے کوئی انجام لکھ لینا

چلو ہم آج یہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتے ہیں

ہمیشہ جان دیتے ہیں ادھر معشوق دنیا پر

ادھر عاشق وہی دنیا ہمیشہ چھوڑ دیتے ہیں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے