پلکوں پہ جو نمی تھی بہائی نہ جا سکی
پلکوں پہ جو نمی تھی بہائی نہ جا سکی
اک آگ سی لگی تھی بجھائی نہ جا سکی
رنگ جمال میرا اگرچہ وہ لے اڑیں
پر تتلیوں سے خوشبو چرائی نہ جا سکی
تھی دیدنی چمن میں وہ پھولوں کی بے بسی
مکھی جو تن پہ بیٹھی اڑائی نہ جا سکی
ملنے کے بعد اس سے رہا دل میں یہ ملال
آنکھ اس دفعہ بھی اس سے ملائی نہ جا سکی
اس نا-سمجھ کو کوششوں کے باوجود بھی
آنکھوں سے دل کی بات بتائی نہ جا سکی
مغلوب موج دریا رہی کشتیٔ حیات
مرضی سے اپنی سمت چلائی نہ جا سکی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.