مجھے اندر کا وحشی معتبر ہونے نہیں دیتا
مجھے اندر کا وحشی معتبر ہونے نہیں دیتا
جدھر انسانیت ہے یہ ادھر ہونے نہیں دیتا
نمو کی ساری خاصیت ہے پنہاں میرے سینے میں
زمیں کا شور ہی مجھ کو شجر ہونے نہیں دیتا
اچانک ٹوٹ پڑتیں بجلیاں ہیں میرے خرمن پر
برا دن اپنے آنے کی خبر ہونے نہیں دیتا
میں جب بھی بات کرتا ہوں وہ مجھ کو ٹوک دیتا ہے
مرا بیٹا ہی مجھ کو معتبر ہونے نہیں دیتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.