مرے دل سے جب تو اتر گیا کئی لوگ دل سے اتر گئے
مرے دل سے جب تو اتر گیا کئی لوگ دل سے اتر گئے
مجھے ایک خواب کی چاہ تھی مرے سارے خواب بکھر گئے
ترا دکھ زباں سے بیاں کیا تو زبان جلنے لگی مری
ترا غم جو نذر قلم کیا مرے ہاتھ چھالوں سے بھر گئے
کہ تمام عمر نگر نگر اسے ڈھونڈتے رہے دربدر
وہ جو سامنے کبھی آ گیا اسے دیکھنے سے مکر گئے
کہ ہزار بار ملے ہیں ہم کہیں زندگی کے سراب میں
میں ہزار بار بکھر گئی وہ ہزار بار سنور گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.