بھولی بسری یادیں لے کر جا بیٹھے میخانے میں
بھولی بسری یادیں لے کر جا بیٹھے میخانے میں
دل ہم کو سمجھانے میں ہے ہم دل کو سمجھانے میں
ایک طرف کے پیار کی قسمت بالکل ایسی ہوتی ہے
جیسی ہوتی ہے شیشے کی پتھر سے ٹکرانے میں
من کا دیپک بجھا بجھا سا بستی کیا ویرانے کیا
پیار ملے تو فرق کریں کچھ بستی اور ویرانے میں
تن کی اپنی مجبوری ہے دوری ہے تو دوری ہے
من کو دیر کہاں لگتی ہے من تک آنے جانے میں
پریم کتھاؤں کے ہر یگ میں پاتر بدلتے ہیں ورنہ
گوکل میں اب بھی کانہا ہے رادھا ہے برسانے میں
جتنے پھول جھریں اپون میں اتنی کلیاں کھلتی ہیں
کمی نہیں آنے دیتی ہے قدرت کبھی خزانے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.