آستینوں میں یہ جو بستے ہیں
آستینوں میں یہ جو بستے ہیں
سانپ بن کر یہی تو ڈستے ہیں
کس قدر اعلیٰ ظرف والے ہیں
مشکلوں میں جو لوگ ہنستے ہیں
دل اچانک سے بیٹھ جاتا ہے
لوگ جب تیرا طنز کستے ہیں
جیسے چاہے خرید لو ان کو
آج کل لوگ کتنے سستے ہیں
بس نمازیں ہی کیوں پڑھیں مفتی
نیکیوں کے ہزار رستے ہیں
تیرے حصے کے اشک جان شاہ
عارضوں پر مرے برستے ہیں
شاہزادی تو جا چکی یارو
یہ شہنشاہ کیوں ترستے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.