Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں

سلیم احمد

جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں

سلیم احمد

جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں

اندھیری رات ہے کاغذ پہ میں تارے بناتا ہوں

محلے والے میرے کار بے مصرف پہ ہنستے ہیں

میں بچوں کے لیے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں

وہ لوری گائیں گی اور ان میں بچوں کو سلائیں گی

میں ماؤں کے لیے پھولوں کے گہوارے بناتا ہوں

فضائے نیلگوں میں حسرت پرواز تو دیکھو

میں اڑنے کے لیے کاغذ کے طیارے بناتا ہوں

مجھے رنگوں سے اپنے حیرتیں تخلیق کرنی ہیں

کبھی تتلی کبھی جگنو کبھی تارے بناتا ہوں

زمیں یخ بستہ ہو جاتی ہے جب جاڑوں کی راتوں میں

میں اپنے دل کو سلگاتا ہوں انگارے بناتا ہوں

ترا دست حنائی دیکھ کر مجھ کو خیال آیا

میں اپنے خون سے لفظوں کے گل پارے بناتا ہوں

مجھے اک کام آتا ہے یہ لفظوں کے بنانے کا

کبھی میٹھے بناتا ہوں کبھی کھارے بناتا ہوں

بلندی کی طلب ہے اور اندر انتشار اتنا

سو اپنے شہر کی سڑکوں پہ فوارے بناتا ہوں

RECITATIONS

نعمان شوق

نعمان شوق,

00:00/00:00
نعمان شوق

جو آنکھوں کے تقاضے ہیں وہ نظارے بناتا ہوں نعمان شوق

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے