Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی

آل احمد سرور

جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی

آل احمد سرور

جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی

آئے ہیں اس کی سمت سے پتھر کبھی کبھی

ہم جس کے ہو گئے وہ ہمارا نہ ہو سکا

یوں بھی ہوا حساب برابر کبھی کبھی

یاں تشنہ کامیاں تو مقدر ہیں زیست میں

ملتی ہے حوصلے کے برابر کبھی کبھی

آتی ہے دھار ان کے کرم سے شعور میں

دشمن ملے ہیں دوست سے بہتر کبھی کبھی

منزل کی جستجو میں جسے چھوڑ آئے تھے

آتا ہے یاد کیوں وہی منظر کبھی کبھی

مانا یہ زندگی ہے فریبوں کا سلسلہ

دیکھو کسی فریب کے جوہر کبھی کبھی

یوں تو نشاط کار کی سرشاریاں ملیں

انجام کار کا بھی رہا ڈر کبھی کبھی

دل کی جو بات تھی وہ رہی دل میں اے سرورؔ

کھولے ہیں گرچہ شوق کے دفتر کبھی کبھی

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have exhausted your 5 free content pages. Please Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے