Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جس کے لیے صدیاں کئی تاوان میں دی ہیں

حنیف ترین

جس کے لیے صدیاں کئی تاوان میں دی ہیں

حنیف ترین

MORE BYحنیف ترین

    جس کے لیے صدیاں کئی تاوان میں دی ہیں

    وہ لمحہ تو مٹی میں جکڑنے کے لیے تھا

    حالات نے کی جان کے جب دست درازی

    ہر صلح کا پہلو ہی جھگڑنے کے لیے تھا

    منہ زوریاں کیوں مجھ سے سزا وار تھیں اس کو

    پھیلاؤ جہاں اس کا سکڑنے کے لیے تھا

    قربان تھیں بالیدگیاں نخل طلب پر

    کیا جوش نمو آپ اکھڑنے کے لیے تھا

    پانی نے جسے دھوپ کی مٹی سے بنایا

    وہ دائرہ ربط بگڑنے کے لیے تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے