علاج بیکسیٔ چشم نم بھی ممکن ہے
علاج بیکسیٔ چشم نم بھی ممکن ہے
اسی جہاں میں مداوائے غم بھی ممکن ہے
خلوص ہو تو کہیں بندگی کی قید نہیں
صنم کدے میں طواف حرم بھی ممکن ہے
وفا سے ہاتھ اٹھائیں نہ آج دل والے
جفا کے بعد نگاہ کرم بھی ممکن ہے
ہر ایک ساقئ محفل کا اعتبار نہ کر
سبوئے بادۂ رنگیں میں سم بھی ممکن ہے
کوئی ضرور نہیں ہر امید بر آئے
طلب کی راہ میں کچھ بیش و کم بھی ممکن ہے
شب دراز کے گیسو سنور چکے ہیں مگر
کہیں کہیں پہ ابھی پیچ و خم بھی ممکن ہے
شکوہ جبہ و دستار پر نہ جا مضطرؔ
کلام شیخ میں پہلوئے ذم بھی ممکن ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.