دوا بھی کام وہاں پر سدا نہیں آتی
دوا بھی کام وہاں پر سدا نہیں آتی
جہاں کسی کے لبوں پر دعا نہیں آتی
کسی کو چوٹ لگے درد ہم کو ہوتا ہے
وہ کیسے لوگ ہیں جن کو دیا نہیں آتی
پڑے گا لو کو لگانا ضیائے دل کے لئے
لگے نہ لو تو دلوں میں ضیا نہیں آتی
وفا کے واسطے اے دل ہیں امتحان بہت
دیار عشق میں یوں ہی وفا نہیں آتی
دعائیں دل سے کرے جو سدا بشر کے لئے
لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں آتی
تمہارے درد جگر کی دوا ملے شاید
ہمارے درد جگر کی دوا نہیں آتی
دلوں کو توڑنا کم ظرف کی ادا ٹھہری
ہمیں تو آج بھی ایسی ادا نہیں آتی
ہماری بات کا تم کو یقیں نہیں لیکن
یہ بات سچ ہے اثرؔ کو جفا نہیں آتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.