جادۂ الفت کا یہ صبر آزما عالم نہ پوچھ (ردیف .. ن)
جادۂ الفت کا یہ صبر آزما عالم نہ پوچھ
ہر قدم پر غم کی منزل کے سوا کچھ بھی نہیں
یوں تصور نے بڑھائے حوصلے طوفان میں
جیسے ہر اک موج ساحل کے سوا کچھ بھی نہیں
ان کی خلوت گاہ بھی ہے ان کی جلوت گاہ بھی
وسعت کونین میں دل کے سوا کچھ بھی نہیں
ذرے ذرے میں ہیں رنگا رنگ بزم آرائیاں
دونوں عالم تیری محفل کے سوا کچھ بھی نہیں
بس اجل کے بعد ملتی ہے حیات جاوداں
زندگی اک نقش باطل کے سوا کچھ بھی نہیں
شکوۂ بے چارگی میکشؔ کسی سے کیوں کریں
عشق تو محرومیٔ دل کے سوا کچھ بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.