عزت میں بدل دی گئی رسوائی ہماری
عزت میں بدل دی گئی رسوائی ہماری
دنیا کو سمجھ پھر بھی نہیں آئی ہماری
پڑتا ہے ترے دشت میں آنکھوں کا علاقہ
کچھ اس میں زمین آتی ہے دریائی ہماری
یہ ہم جو تجھے جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں
ایسے تو چلی جائے گی بینائی ہماری
تم کاٹ کے رکھ دو کہ ادھڑنے کے نہیں ہم
اس ہاتھ نے کر رکھی ہے ترپائی ہماری
حیرت ہے تجھے پھر بھی یقیں آتا نہیں ہے
حالانکہ ترے دل نے قسم کھائی ہماری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.