پانی کی تحریر پڑھوں گا کیسے میں
پانی کی تحریر پڑھوں گا کیسے میں
تیز ہوا کے ساتھ چلوں گا کیسے میں
تتلی کو جب آگ میں پھینکا جائے گا
اس منظر کو دیکھ سکوں گا کیسے میں
صدیوں سے زندان برق و باد میں ہوں
قفل شام و سحر توڑوں گا کیسے میں
لفظ کہ جن میں میرا خون بھی شامل ہے
کاغذ پر وہ لفظ لکھوں گا کیسے میں
میرے سارے عکس ہیں جس آئینے میں
ریزہ ریزہ اسے دیکھوں گا کیسے میں
تابؔ اگر پتھر ہیں چشم و گوش مرے
سناٹے کی چیخ سنوں گا کیسے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.